اسلام آبادہائیکورٹ میں کلبھوشن سےمتعلقہ نئی قانون سازی کی تفصیلات طلب

فائل فوٹو

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہمی کیس میں اسلام آبادہائیکورٹ نے کلبھوشن سے متعلقہ نئی قانون سازی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

جمعرات نو دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہمی کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس پر سماعت کی۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی بنچ کا حصہ تھے۔

عدالت نےکلبھوشن یادیو کیس سے متعلقہ نئی قانون سازی کی تفصیلات طلب کرلیں۔اسلام آبادہائی کورٹ نے کہا کہ اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر نئی قانونی سازی سے متعلق آگاہ کریں اور کیا نئی قانون سازی کے بعد یہ درخواست عدالت میں قابل سماعت ہے؟۔ آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل سے درخواست قابل سماعت ہونے پر بھی دلائل طلب کرلئے گئے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت 27 جنوری 2022 تک ملتوی کردی گئی ہے۔

انیس نومبر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے بتایا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق بل قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اگراپوزیشن کو قومی سلامتی کی سمجھ نہیں تو یہ رکن پارلیمنٹ کس طرح ہیں۔

وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل صرف کلبھوشن سے متعلق نہیں ہے بلکہ جو اس پیرائے میں آئے گا اس پر یہ قانون لاگوہوگا۔ اگر ہم قانون سازی نہ کرتے تو بھارت ہمارے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی درخواست دیتا لیکن پاکستان نے بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا ہے۔بھارت کی خواہش تھی کہ کلبھوشن کو ريليز کرديا جائے۔

فروغ نسیم نے بتایا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس جیت چکا ہے اور عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کا کہا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور بنانا ریپبلک نہیں ہے۔

نو اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن  یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عملدرآمد کے کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا۔چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے3 صفحات پر مشتمل حکم نامہ تحریر کیا۔ ہائی کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ عالمی عدالت کے فیصلے پر موثرعمل درآمد بھارتی معاونت سے ہی ممکن ہے اور کیس میں معاونت سے بھارت کی خود مختاری متاثر نہیں ہوگی۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ بھارتی قیدی جسپال کے کیس میں بھارت اس ہی عدالت میں پیروی کرچکا ہے اور جسپال کے کیس میں اس ہی عدالت نے بھارتی سفارت خانے کو ریلیف دیا اور بھارت کی خود مختاری کا مکمل خیال رکھا گیا تھا۔

مزید یہ بھی کہا گیا کہ بھارت کو اگر کوئی خدشات ہیں تو اس عدالت کو آگاہ کرسکتا ہے۔ عالمی عدالت کے فیصلے پرعمل اورفئیر ٹرائل یقینی بنانا حکومت پاکستان کا فرض ہے، مناسب ہوگا کہ کلبھوشن کیلئے وکیل فراہمی کا بھارت کوایک اورموقع اورفراہم کیا جائے اور رجسٹرار آفس 9 دسمبر کو دوبارہ یہ کیس سماعت کے لئے مقرر کرے۔

اس سے قبل ہونے والی سماعت میں عدالت کو بتایا گیا کہ 5 مئی کے عدالتی حکم پر بھارت کو پیغام بھجوایا گیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ یہ عدالت کلبھوشن کیلئے وکیل مقرر کرے اور وہ اپیل دائر کرے گا، حکومت پاکستان اپنی طرف سے یہ نہیں کرسکتی، عدالت ہی کرسکتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ کس قانون کے تحت ہم یہ سب کریں ؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بھارت جب اپیل میں خود آہی نہیں رہا تو ہم کیسے سنیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ہم نے عمل کرانا ہے، جو مؤثر کارروائی سے ہی ہوسکتا ہے،ہم نے ویانا کنونشن کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے،کیس میں کلبھوشن کی زندگی کا سوال ہے،ہم نے بھارت کو ہر آپشن دیا، یہ شاید ہمارے لئے مناسب نہیں ہوگا کہ وکیل خود فراہم کریں، ہم اب بھی توقع کرتے ہیں بھارت کلبھوشن کیس میں آگے بڑھے گا۔

اپریل 2021 میں بھارتی سفارتخانے کے وکیل بیرسٹر شاہ نواز نون نے کلبھوشن کیس میں پیروی سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی۔

انہوں نےعدالت میں متفرق درخواست میں بتایا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کیس میں میرے پاس کوئی وکالت نامہ موجود نہیں۔کیس میں بھارت کی جانب سے کوئی بیان نہیں دے سکتا۔

 اس سے قبل 6 اکتوبر 2020 کو سینیر وکلاء مخدوم علی خان اور عابد حسن منٹو نے عدالتی معاونت سے معذرت کرلی تھی۔عدالت عالیہ نے سینیر وکیل عابد حسن منٹو اور مخدوم علی خان کو کلبھوشن کیس میں عدالتی معاون مقرر کیا تھا۔ دونوں نے عدالت میں جمع جواب میں یہ ذمہ داری نبھانے سے معذرت کرتے ہوئے جواب عدالت میں جمع کرادیا تھا جس میں عابد حسن منٹو نے خراب صحت اور مخدوم علی خان نے پیشہ وارانہ وجوہات کا جواز بنایا ۔

عابد منٹو نے مؤقف اپنایا کہ اپنی عمر اور جسمانی کمزوری کے باعث عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہوں۔ کچھ سال قبل وکالت سے ریٹائر بھی ہوچکا ہوں۔ عدالت معذرت قبول کرے۔

مخدوم علی خان کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے معاون مقرر کیا جانا باعث فخر ہے لیکن پیشہ ورانہ وجوہات کی بنیاد پر معاونت نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ وزارت قانون نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

بھارتی نیوی کے حاضر افسر کلبھوشن یادھوکو3 مارچ 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔





Source link

About admin

Check Also

آنے والا لانگ مارچ اور دھرنا آخری ہوگا،عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میرا آنے والا لانگ مارچ اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published.