انتہا پسندی اور جنونیت کا بڑھتا ہوا رجحان 

ہمارے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے واقعات کیو ں ہوتے ہیں؟ مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت کم ہونے کی بجائے بڑھتی کیوں جا رہی ہے؟ اس کی کئی وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں اور اس سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے مگر اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وطن عزیز میں فرقہ واریت، انتہا پسندی، عدم برداشت اور مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے کو قتل کرنے کی روایت جنرل ضیاء الحق کے دور میں ڈالی گئی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال یعنی 2020 میں سب سے زیادہ یعنی 200 افراد کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج کیے گئے۔ یہ تعداد توہین مذہب کے قانون میں سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں کی گئی ترمیم کے 37 سال بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل سال 2009 میں سب سے زیادہ 113 افراد پر ان الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ 

توہین مذہب کے نام پر قتل کے چند واقعات پر نظر ڈالیں تو روح بھی کانپ جاتی ہے کہ کس وحشیانہ اور دلخراش طریقے سے انسانوں کو قتل کیا جاتا ہے کوئی بھی باشعور اور ہوش مند انسان کسی حیوان کو بھی اس طرح بے دردی اور بھیانک انداز میں تشدد کرکے قتل نہیں کرسکتا۔ گزشتہ دنوں سیالکوٹ میں ایک فیکٹری کے غیر ملکی منیجر پریانتھا کمار جس کا تعلق سری لنکا سے تھا، کو توہین مذہب کے نام پر ہزاروں آنکھوں کے سامنے قتل کرنے کے بعد آگ لگائی گئی اور ان سے انتہائی غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس شخص کا جسم 99 فیصد جل گیا تھا اور پاؤں کے علاوہ کوئی ہڈی سلامت نہیں تھی۔ یہ پاکستان میں توہین مذہب کے الزام کے بعد قتل کا پہلا واقعہ نہیں اور نہ اسے آخری واقعہ کہا جاسکتا ہے۔ 

ایک ہفتہ قبل چارسدہ میں مشتعل ہجوم نے ایک پولیس اسٹیشن سمیت کئی سرکاری املاک کو نذر آتش کیا۔ وہ پولیس سے مطالبہ کر رہے تھے کہ پولیس کے زیرحراست اُس شخص کو ہجوم کے حوالے کیا جائے جس پر توہین مذہب کا الزام تھا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی گئی۔ چند سال قبل خیبرپختونخواہ میں ہی مشعال خان کو بھی توہین مذہب کا الزام لگا کر مشتعل ہجوم نے یونیورسٹی ہاسٹل میں بےدردی سے قتل کر دیا تھا۔ پاکستان میں اس وقت سینکڑوں افراد توہین مذہب کے الزامات میں جیلوں میں موجود ہیں۔ ملک میں توہین مذہب کے نام پر اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن تحقیقات کے بعد علم ہوا کہ بیشتر واقعات ذاتی عناد یا غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آئے۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے انتہائی سخت اقدامات کی ضرورت رہی ہے مگر حکومتیں اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ان عناصر کے خلاف سخت اقدامات اُٹھانے سےاپنا دامن بچاتی رہی ہیں۔ 

فتویٰ میں کہا گیا ہے کہپاکستان کے قانون میں آرٹیکل سی 295 کے تحت گستاخ رسول کی سزا بطور حد قتل ہے اور اس جرم کے پائے جانے اور اقرار یا شرعی گواہوں کی گواہی سے یہ ثابت ہوجانے کی صورت میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سزا کا اطلاق کرے اور توہین رسالت سمیت تمام شرعی حدود کے نفاذ اور سزاؤں کا اجرا حکومت کا کام ہے، ہرکس و ناکس اس طرح کی سزا جاری کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ (دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن) 

 فتویٰ میں صاف صاف لکھا ہے کہ اگر کہیں ایسا جرم ہوتا ہے تو قانون کے مطابق سزا دی جائے لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دی گئی۔ لیکن ہم دین کو تو مانتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ دین کی ایک بھی نہیں مانتے۔ 

 ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو جنوری 2011 میں اسلام آباد میں ان کے ایک گارڈ ممتاز قادری نے اس بات پر قتل کردیا تھا کہ انہوں نے ناموس رسالت جیسے قانون کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ ممتاز قادری کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سن 2011 میں 2 مرتبہ موت کی سزا سنائی ۔سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فروری 2015 میں سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان میں یہ مقدمہ اتنا حساس بن گیا تھا کہ کو کوئی بھی سینئر وکیل قادری کے خلاف کیس لڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جہاں ایک طرف ممتاز قادری کو بچانے کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع کا استعمال کیا جا رہا تھا وہیں مذہبی فرقہ وارانہ اور دیگر تنظیموں اور شخصیات نے ممتاز قادری کو رہا کروانے اور اُن کو دی جانے والی پھانسی کی سزا کالعدم قرار دلوانے کے لیے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہوا تھا۔ ممتاز قادری کے اعتراف جرم کے بعد انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد یہ تحریک مزید عوامی طاقت بن کر ابھری۔ ان تنظیموں اور شخصیات میں سرفہرست ’تحریکِ لبِیک یا رسول اللّہ العالمی‘ اور سیاسی جماعت ’تحریک لبیک اسلام‘ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی اور مولانا خادم حسین شامل تھے۔ بعد میں مولانا خادم حسین کی سرپرستی میں تحریک لبیک پاکستان قا ئم ہوئی جو بہت کم عرصے میں پاکستان کی ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری ۔ اپنی 6 برس کی سیاسی عمر میں مختلف مطالبات منوانے کے لیے تحریک لبیک 7 مرتبہ مختلف نوعیت کے احتجاجی مظاہرے کر چکی ہے۔ ہر مرتبہ ان احتجاجوں نے پرتشدد شکل اختیار کی اور ان کا اختتام ہر بار حکومتِ وقت سے کسی نہ کسی معاہدے پر ہوا۔ 

حال ہی میں دھرنے اور احتجاج کے دوران تحریک لبیک اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے درمیان 9 پولیس اہکار شہید ہوئے۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان شہید پولیس اہکاروں کے گھروں پر تعزیت کے لیے صوبائی اور وفاقی کسی ایک وزیر نے جانے کی زحمت نہیں کی۔ اس سے شرمناک یہ عمل ہوا کہ پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے پہلے سے گرفتار تحریک لبیک کے کارکنوں کو نہ صرف رہا کردیا گیا بلکہ چند روز قبل تک جس جماعت کو تحریک انصاف کے وفاقی وزیر ملک دشمن قرار دے رہے تھے اور یہ کہا جارہا تھا کہ اس جماعت کو فنڈنگ دشمن ملک سے ہوتی ہے اور ٹیوٹر اکاؤنٹ بھی بھارت سے چلائے جاتے ہیں۔ پھر اچانک ایسا کیا ہو اکہ وفاقی وزیر داخلہ سے لے کر وزیر خارجہ تک مذاکرات اور معاہدے کا حصہ بن گئے۔ وفاقی حکومت نے ایک خفیہ معاہدے کے تحت سعد رضوی سمیت ٹی ایل پی کے گرفتار افراد کو نہ صرف رہا کیا بلکہ ان پر قائم مقدمات کو بھی ختم کیا گیا۔ حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ ‘یہ اقدامات ملک کے وسیع تر مفاد عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے’۔ تحریک لبیک کے سیکٹروں کارکن جن پر فورتھ شیڈول کے تحت مقدمات بنائے گئے تھے وہ تمام مقدمات ختم کردیے گئے۔ حکومت کے ترجمانوں کے مطابق اگرتحریک لبیک انتہا پسند تنظیم ہے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت نے اس تنظیم کو کلعدم قرار دیا  تھا تو پھر تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان کے خلاف کارورائی ہونی چاہیے تھی مگر حکومت نے ’ملک کے وسیع تر مفاد‘ میں ایک خفیہ معاہدے کے تحت تحریک لبیک کے تمام مطالبات کو تسلیم کرلیا۔ اگر پنجاب پولیس کے 9 شہید پولیس اہکاروں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹھرے میں کھڑا کیے بغیر اور شہیدوں کے اہل خانہ کی مرضی کے بغیر قاتلوں کو معاف کیا جائے گا اورعدل و انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر خفیہ معاہدے ہوتے رہیں گے تو پھر ہمیں سیالکوٹ جیسے سانحات کے تیار رہنا چاہیے۔ 

دین سے محبت ایمان کا حصہ ہے مگر ہم اس حصے کو ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم میں صبر، برداشت، رواداری سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔ ہم بنا سوچے سمجھے ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں جس کا مقصد صرف اور صرف شر پھیلانا ہوتا ہے۔ ہم کس طرف جارہے ہیں؟ ہم پہلے تو ایسے ہرگز نہ تھے۔ پیار، محبت، امن اس ملک کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ دنیا ہماری مہمان نوازی کی مثال دیا کرتی تھی۔ لیکن آج ہم دنیا میں تو رسوا ہو ہی رہے ہیں، ساتھ ساتھ دین سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں۔ سیالکوٹ کا واقعہ ہوکر گزر گیا مگر آنے والے وقتوں میں جو پریشانیاں اور مصیبتیں ہم پر ٹوٹیں گی یقیناً ابھی ہیمیں اس کا اندازہ نہیں۔ اگر گزشتہ واقعات پر ہی حکومت صائب اقدامات کرتی تو آج یہ سانحہ پیش نہیں آتا۔ ہر واقعے کی طرح سیالکوٹ واقعے کی بھی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ حکومت سے التماس ہے کہ اس بار ذمہ داران کے لیے مذہب کے نام پر نرم گوشہ نہ رکھے۔ مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے کیوں کہ اس سانحہ نے دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اس واقعے پر عالمی دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ 

 صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سیالکوٹ سانحہ پر کہا کہ یہ واقعہ بہت ہی افسوسناک اور شرمناک ہے اور اس کا کسی بھی صورت مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعظم عمران خان  کا کہنا تھا کہ سری لنکن منیجرکو زندہ جلانے کا واقعہ پاکستان کے لیے شرم کا دن ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ بہت دلخراش اور قابل مذمت ہے۔ اس طرح کے روایتی بیانات سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم اس سانحہ کے بعد بھی کوئی ایسا عملی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہوجائیں جس کے نتیجہ میں مذہبی انتہا پسندی کو روکا جاسکے بصورت دیگر پھر ایک واقعہ کے بعد کسی دوسرے سانحہ کا انتظار کریں۔ 

ہمیں بحیثیت قوم اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ حکومت ہو، ادارے ہوں یا 22 کروڑعوام ، ماضی کے سانحات سے کوئی سبق حاصل نہیں کررہا۔ اگر حکومت نے ریاستی طاقت اور عوام نے اپنے شعورسے بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت کو کنٹرول کرنے میں اپنا اپنا بنیادی کردار ادا نہیں کیا تو پھر خدشہ ہے کہ اس طرح کے عناصر ہمارے معاشرے میں چلتے پھرتے بم بن جائیں گے اور پھر وہ جب  اور جہاں چاہیں گے پھٹ جائیں گے۔ اگر انتہا پسندی اور جنونیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ریاست نے نہ روکا تو نتائج بہت بھیانک ہوسکتے ہیں۔ 





Source link

About admin

Check Also

آنے والا لانگ مارچ اور دھرنا آخری ہوگا،عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میرا آنے والا لانگ مارچ اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published.