بینائی ملنےپر بچے کی مسکراہٹ کے سوشل میڈیا پر چرچے

امریکاکے ایک نامعلوم شخص نےآنکھیں عطیہ کیں

ایبٹ آباد کے رہائشی ساجد الرحمن کے ننھے بیٹے کی بےنور آنکھوں کو روشنی ملی تو اس کی مسکراہٹ کے سوشل میڈیا پر خوب چرچے ہوئے۔

حيرت اور خوشی سے مسکراہٹيں بکھيرتے شہاب الدين نے اندھيرے سے اجالے کا يہ سفرسات ماہ کے کٹھن انتظار کے بعد طے کيا ہے۔ شہاب کی بے نورآنکھوں ميں دوبارہ روشنی امريکی شہر بوسٹن کا نامعلوم شہری لايا ہے جس کی عطيہ کی گئی آنکھوں نے اس ننھے فرشتے کی زندگی کواس کے نام کی طرح روشن کرديا ہے۔

شہاب کے والد ساجد الرحمان ايبٹ آباد کے رہائشي ہيں جن کے جگر گوشے کی بينائی آٹھ ماہ کی عمر ميں چلی گئی تھی،جس کےعلاج کيلئے وہ کراچی آئے۔ ساجد الرحمان بیٹے کی بينائی آنے پر خوش ہيں کہتے ہیں اللہ کا شکر ہے اب ہمیں یہ ڈر نہیں کہ یہ گرجائے گا یا اسے چوٹ لگ جائے۔

شہاب کی آنکھوں کا آپريشن پاکستان آئی بينک سوسائٹی نے مفت کيا ہے۔ماہرچشم کہتے ہیں والدین کو بچے کی آنکھوں کی خوبصورتی بڑھانا مہنگا پڑ گيا تھا جبکہ بچے کی کم عمری کی وجہ سے آپريشن بھی آسان نہيں تھا۔

ماہر چشم اور سرجن فیصل مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اس بچے کی آنکھوں میں مسکارے کی وجہ سےانفیکشن ہوگیا تھا،4 سال سے کم عمر بچے کی ٓانکھ کے قرینہ کی پیوندکاری عموماً نہیں کی جاتی مگر ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا۔

زندگی کے رنگ کتنے حسین ہیں شہاب الدين کی چمکتی آنکھيں اس کا پتا دے رہی ہيں۔ ليکن ماہرين چشم کہتے ہيں کہ پاکستان کا ہر بچہ اتنا خوش قسمت نہيں ہے اوراس کی وجہ وہ آنکھيں عطيہ نہ کرنے کو بتاتے ہيں۔

ڈٓاکٹرفیصل مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ پاکستان ميں بينائی سے محروم افراد کی زندگی ميں روشنی کی کرنيں بکھيرنا مشکل نہيں ہے ليکن پاکستان سے قرینہ کا عطیہ نہ ملنے کی وجہ سے نابينا افراد کو بيرون ملک سے ملنے والے عطيات کا طويل عرصے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔





Source link

About admin

Check Also

آنے والا لانگ مارچ اور دھرنا آخری ہوگا،عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میرا آنے والا لانگ مارچ اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published.