توہین عدالت کیس:عمران خان کا بیان حلفی جمع


جج مخالف توہین آمیز الفاظ پر توہین عدالت کیس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( PTI ) ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان ( Imran Khan ) نے آج بروز ہفتہ یکم اکتوبر کو بیان حلفی جمع کرا دیا ہے۔

عمران خان نے اپنے بیان حلفی میں عدالت سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی۔

بیان حلفی کے متن کے مطابق دوران سماعت احساس ہوا کہ 20 اگست کو تقریر میں شاید ریڈ لائن کراس کی۔ اگر جج کو یہ لگا کہ ریڈ لائن کراس ہوئی تو معافی مانگنے کو بھی تیار ہوں۔ تقریر میں جج ( Zeba Chaudhry ) کو دھمکی دینے کا ارادہ نہیں تھا۔

مزید وضاحت میں لکھا گیا کہ ایکشن لینے سے مراد لیگل ایکشن کے سوا کچھ نہیں تھا۔ 26 سال عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔

بیان حلفی میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت کے سامنے جو کچھ کہا اس پر مکمل عمل کروں گا۔ عدالت اطمینان کیلئے مزید کچھ کہے تو اس حوالے سے بھی مزید اقدام کرنے کو تیار ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ اگر جج سمجھیں کہ ریڈ لائن کراس کی ہے تو معافی مانگنے پر تیار ہوں، گزشتہ سماعت پر عدالت سے معافی مانگی تھی، 22 ستمبر کو عدالت میں دئیے گئے بیان پر قائم ہوں اور اس پر عمل کروں گا۔

عمران خان نے مستقبل میں عدلیہ سے متعلق محتاط رہنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے عدلیہ کے وقار بالخصوص ماتحت عدلیہ کو نقصان پہنچے۔

Source link

About admin

Check Also

میری جنگ آئین کی بالادستی کیلئے ہے، حکومت عام انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ نہیں،عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت عام انتخابات کے انعقاد میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *