جب تک میں ہوں سیالکوٹ جیسا واقعہ نہیں ہونے دوں گا، وزیراعظم 

علماء کرام سے اصلاح معاشرہ کی اپیل 

وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک وہ ہیں ملک میں آئندہ کبھی سانحہ سیالکوٹ جیسا واقعہ رونما نہیں ہونے دیں گے۔ 

منگل کو وزیر اعظم ہاؤس میں سری لنکن حکومت اورعوام کے ساتھ اظہاریکجتہی کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان بھی یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ اب ملک میں اس قسم کا واقعہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ یہاں ہم یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں کہ دین کے نام پر لوگ مررہے ہیں اور مارنے والے نبی ﷺ کا نام استعمال کررہے جبکہ ایسا دنیا کے کسی بھی معاشرہ میں نہیں ہوتا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ صرف الزام کی بنیاد پر لوگ جیل جاتے ہیں اور پھر نہ ایسے لوگوں کو کوئی وکیل ملتا ہے اور بعض اوقات تو جج بھی ایسے کیسز سننے سے انکار کردیتے ہیں لیکن انشاء اللہ ہم آئندہ کے لیے سیالکوٹ جیسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہونے دیں گے۔ 

عمران خان نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے رحمت بن کر آئے تھے اور آپ ﷺ نے پہلے ان عرب قبیلوں کو اکٹھا کیا جو ہر وقت آپس میں لڑتے تھے کیوں کہ وہ ایک فکری انقلاب تھا جس کا پیغام دنیا میں تلوار کے زور پر نہیں پھیلایا گیا۔ 

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے 10 سالہ حکمرانی میں جب وہ پورے عرب پر چھائے ہوئے تھے صرف 1400 لوگ مرے تھے، ان کا پیغام انسانیت اور انصاف پر مبنی تھا اور یہی دو صفات انسانوں کو جانوروں سے الگ کرتی ہے۔ 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انسانوں کے معاشرہ میں انصاف ہوتا ہے جبکہ جانوروں کے معاشرہ میں کمزوروں کےلیے کوئی جگہ نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست دنیا کی پہلی فلاحی ریاست تھی جس میں کمزور طبقے کی فلاح کے لیے کام کیا گیا۔  

عمران خان نے علماء کرام سے اصلاح معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسکول و کالج سمیت ہر پلیٹ فارم پر لوگوں کو رسول ﷺ کے سیرت مبارک سے متعلق بتائیں تاکہ لوگ ان کے زندگی سے روشناس ہوسکیں۔ 

انہوں نے کہا آرمی پبلک اسکول پشاور کے خوفناک واقعہ کے بعد پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اکٹھی ہوئی تھی جس کے بعد ہمیں وہ جنگ جیتنے میں کامیابی ملی تھی کیوں کہ اس سے قبل اس طرح سے قوم میں اتحاد نہیں تھا۔ 

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کہ ساری قوم عاشق رسول ﷺ ہے آپ کو عشق کے اس راستے پر چل کر ثابت کرنا ہے کہ اگر صحیح معنوں میں سیرت رسول ﷺ سمجھ لی جائے تو سیالکوٹ میں ہونے والی وہ حرکت کرنے کا کوئی تصور بھی نہ کرے۔ 

اس موقع پر وزیر اعظم نے بتایا کہ سیالکوٹ کی تاجر برادری نے پیغام بھحوایا ہے کہ انہوں نے ایک لاکھ ڈالر اکٹھے کیے ہیں جو پريانتھا کمارا کے خاندان کو بھیجے جائیں گے جبکہ مقتول کی ماہانہ تنخواہ بھی پہلے کی طرح ان کے اہل خانہ کوپابندی سے ملتی رہا کرے گی۔ 

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعہ میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے پاکستانی ملک عدنان کو تعریفی سند سے بھی نوازا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے افسوسناک اور شرم ناک واقعہ میں حیوانوں کے درمیان پریانتھا کمارا کی جان بچانے کی کوشش پر ملک عدنان لائق تحسین اور نوجوانوں کےلیے رول ماڈل ہیں۔





Source link

About admin

Check Also

پیپلزپارٹی کےرہنما وقار مہدی بلا مقابلہ سینیٹر منتخب

ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات طے ہونے کے بعد کراچی سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *