جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری بلانے کا مطالبہ


سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری طلب کرنے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ دیا۔ کہا کہ عدالت عظمیٰ میں 5 ججز کی اسامیاں خالی ہیں، جس کی وجہ سے مقدمات کا بوجھ دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں 5 ججز کی ریٹائرمنٹ کے باعث آسامیاں خالی ہیں، اس لئے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلایا جائے۔

انہوں نے خط میں کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ کو 239، جسٹس قاضی امین احمد کی ریٹائرمنٹ کو 187، جسٹس مقبول باقر کو 177، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل کو 77 اور جسٹس سجاد علی شاہ کو ریٹائر ہوئے 46 روز گزر چکے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فوری انصاف کی فراہمی سپریم کورٹ کا آئینی فرض ہے، سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ ججز کی 30 فیصد کم تعداد کے ساتھ کیوں کام کررہا ہے، عدالت عظمیٰ پر مقدمات کا بوجھ دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد کیسز زیر التواء ہیں، مجھے یہ بتاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ اگر اسامیوں کو پر نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ میں دائر مقدمات کا کبھی بھی فیصلہ ہونے کا امکان نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہنا ہے کہ چیف جسٹس صاحب! متعدد بار کہہ چکا ہوں اپنا آئینی کردار ادا کریں، سپریم جوڈیشل کونسل ارکان کو اپنا کام بھی کرنےدیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کیا جائے تاکہ ارکان ججز کی تقرری کرسکیں کیونکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد کسی صورت کم نہیں ہونا چاہئے۔


Source link

About admin

Check Also

پیپلزپارٹی کےرہنما وقار مہدی بلا مقابلہ سینیٹر منتخب

ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات طے ہونے کے بعد کراچی سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *