صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کی چیف جسٹس سے درخواست

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے سے قبل لگتا تھا سارے کرپٹ لوگوں کوپکڑ کر ریکوری کریں گے مگر یہ اتناآسان نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی خصوصی اختیارات نہیں ہیں دوسرے اداروں پر انحصار کررہے ہیں۔

سماء کے پروگرام احتساب میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ احتساب کا عمل جاری ہے ابھی مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ اور اس کے بعد جتنی ریاستیں قائم ہوئییں میں کرپشن کیخلاف جہدوجہد ہمیشہ سے جاری رہی کیونکہ انسان میں شیطان کی صورت میں کرپشن اور بے ایمانی موجود ہے۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک سے قبل کرپشن کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھا جاتا تھا اور یہ موضوع ہمارے سیاسی ڈائیلاگ کا حصہ ہی نہیں تھا، یہ تو ہماری تحریک کے بعد لوگوں نے اس حوالے سے سوچنا شروع کردیا۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان کے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پاکستان میں یا تو وہ مطلوبہ نظام نہیں ہے یا کمزور ہے۔

صدرمملکت کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں زیرالتواء کیسز میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ کبھی چور اور کبھی ثبوت غائب ہوجاتے ہیں لہذا نظام احتساب کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں تھیں اسی طرح کرپشن مقدمات کا انحصار بھی عدالتوں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ کرپشن کے مقدمات تیزی سے چلوائیں، پیسہ کہاں سے آیا یہ بتانا ضروری ہے کیونکہ یہ طریقہ کار دنیا بھر میں مالی کرپشن کےلیے اختیار کیا جارہا ہے۔





Source link

About admin

Check Also

اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلادی، نوازشریف کا مریم نواز کی بریت پر اظہار تشکر

قائد ن لیگ نوازشریف کا کہنا ہے کہ انسان سچا ہو تو اللہ ساتھ نہیں …

Leave a Reply

Your email address will not be published.