طرز زندگی کی تبدیلی کیلئے نوجوان نے اچھی عادت ہی چھوڑ ڈالی

کولاج فوٹو: سوشل میڈیا

بری عادتیں ترک کرنے والوں کے بارے میں تو آپ نے سنا ہی ہوگا، لیکن اب انگلینڈ میں ایسا شخص سامنے آیا ہے جس نے مختلف طرز زندگی کے لیے اچھی عادت کو ہی ترک کر ڈالا۔ 

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ نوجوان اپنے مقامی علاقے کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی مشہور ہوگیا اور ہمیشہ ننگے پاؤں رہنے کا فیصلہ ہی اس کی شہرت کی وجہ بن گیا۔ 

جارج ووڈ ویلے نامی یہ شخص ایک سال پہلے تک تقریباً تمام ہی وقت جوتے پہن کر رکھتا تھا، حتیٰ کہ اسے گھر میں بھی جوتے یا چپل پہنے رکھنے کی عادت تھی۔ 

جارج ووڈ کا کہنا تھا کہ اس کے ذہن میں ننگے پاؤں رہنے کا خیال اس وقت آیا جب وہ پلے ماؤتھ میں چھٹیوں کے دوران اپنی والدہ کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے۔ 

اس کا کہنا تھا کہ جب میں چہل قدمی سے واپس لوٹ کر آیا تو ننگے پاؤں رہنے کے فوائد کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، اس دوران ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو ننگے پاؤں رہتے ہیں۔ 

اس شخص کا کہنا تھا کہ اس نے اُسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ آئندہ جوتے وغیرہ نہیں پہنے گا۔ 

جارج کا کہنا تھا کہ ننگے پاؤں گھر سے باہر جانے کا تجربہ ایک ریسٹورنٹ کا تھا، جہاں انہیں کچھ الگ محسوس ہوا۔

ان کا بتانا تھا کہ اس نے اپنی چھٹیوں سے واپس گھر آکر اپنے تمام جوتوں کو پھینک دیا تھا اور مکمل ننگے پاؤں رہنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ 

جارج ووڈ ویلے کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے بعد سے وہ بہتر محسوس کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اس نے جوتے نہ پہننے کے نقصانات بھی بتائے اور اعتراف کیا کہ اس کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ 

اس نے کہا کہ کچھ سپر مارکیٹ کے منیجرز انہیں صرف اس وجہ سے داخل نہیں ہونے دیتے کیونکہ وہ جوتے نہیں پہنے ہوئے ہوتے۔ 

انہوں نے بتایا کہ اکثر انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ ’یہ شخص کیسا عجیب ہے‘، لیکن پھر بھی کبھی پشیمانی محسوس نہیں کی۔ 

اس کا کہنا تھا کہ سردیوں میں ابتدا میں یہ بہت ہی مشکل تھا، پیر میں ٹھنڈ بھی لگی اور پیر خشک بھی ہوئے، لیکن بعد میں عادت ہوگئی۔ 




Source link

About admin

Check Also

بھارت میں خدمت خلق کرنے والا چور پکڑا گیا

بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں خدمت خلق کرنے والا چور پکڑا گیا، جس کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *